قرآن کریم » اردو » سورہ بلد

اختر القاريء


اردو

سورہ بلد - آیات کی تعداد 20
لَا أُقْسِمُ بِهَٰذَا الْبَلَدِ ( 1 ) بلد - الآية 1
ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم
وَأَنتَ حِلٌّ بِهَٰذَا الْبَلَدِ ( 2 ) بلد - الآية 2
اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو
وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ( 3 ) بلد - الآية 3
اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ ( 4 ) بلد - الآية 4
کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ( 5 ) بلد - الآية 5
کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا ( 6 ) بلد - الآية 6
کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ ( 7 ) بلد - الآية 7
کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ ( 8 ) بلد - الآية 8
بھلا ہم نےاس کو دو آنکھیں نہیں دیں؟
وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ( 9 ) بلد - الآية 9
اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ( 10 ) بلد - الآية 10
(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر و شر کے) دونوں رستے بھی دکھا دیئے
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ( 11 ) بلد - الآية 11
مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ( 12 ) بلد - الآية 12
اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟
فَكُّ رَقَبَةٍ ( 13 ) بلد - الآية 13
کسی (کی) گردن کا چھڑانا
أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ( 14 ) بلد - الآية 14
یا بھوک کے دن کھانا کھلانا
يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ( 15 ) بلد - الآية 15
یتیم رشتہ دار کو
أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ ( 16 ) بلد - الآية 16
یا فقیر خاکسار کو
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ( 17 ) بلد - الآية 17
پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے
أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ( 18 ) بلد - الآية 18
یہی لوگ صاحب سعادت ہیں
وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ( 19 ) بلد - الآية 19
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں
عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ ( 20 ) بلد - الآية 20
یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے

کتب

  • ممنوعات شرعیہ-

    تاليف : محمد صالح المنجد

    ترجمہ کرنے والا : مشتاق احمد كريمي

    اصدارات : الہلال ایجوکیشنل سوسائٹی کٹیہار- انڈیا

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/59

    التحميل :ممنوعات شرعیہ

  • صفات المنافقین-

    تاليف : علامہ ابن قیم الجوزی

    اصدارات : وزارت برائے اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد ریاض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/61

    التحميل :صفات المنافقین

  • مقام صحابہ رضی اللہ عنہمجسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - عبد الحى انصارى - طارق محمود ثاقب - محمد خبیب احمد

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/379352

    التحميل :مقام صحابہ رضی اللہ عنہم

  • اہم امور پر تنبیہ-

    تاليف : علي بن صالح الجبالي

    ترجمہ کرنے والا : مشتاق احمد كريمي

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/79

    التحميل :اہم امور پر تنبیہ

  • دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمالاسلام میں فضائل اعمال واقوال کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اللہ کی مرضى کا متلاشی انسان ان پرعمل کرکے زیادہ سے زیادہ ثواب کما کر اللہ کو خوش کرنا چاہتا ہے اور پھر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو حاصل کرکے اپنی دنیا وآخرت کو اچھی بنانا چاہتا ہے. اسلئے اعمال کی فضیلت اور انکے اجروثواب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک عام کرنے کی ضرورت ہے. چونکہ فضائل اعمال سے متعلق سب سے مشہور کتاب تبلیغی جماعت کی "تبلیغی نصاب" کی کتاب ہے لیکن اللہ جانتا ہے اسمیں کس قد آزادی سے ضعیف اور موضوع احادیث کو بھردیا گیا ہے- یہی نہیں بلکہ ایسے قصوں اور کہانیوں کو جمع کردیا گیا ہے جو صحیح عقیدہ کے خلاف ہیں- کرامت کے نام پر انہیں قبول کیا جارہا ہے –اللہ تعالى معاف فرمائے ان کے جامع اور مؤلف کو نیز ان پر یقین رکھنے والوں کو- اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظہ اللہ نے صحیح فضائل اعمال کے نام سے یہ کتاب تالیف فرمائی ’جسکی ترتیب واضافہ کا کام حافظ محمود حفظہ اللہ نے انجام دیا ہے. اس کتاب میں قرآن اورصحیح حدیث کے ذریعہ فضائل اعمال کو جمع کیا گیا ہے’ مواد کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے- اللہ تعالى مؤلف ’ مرتب ’ پبلشرسب کو اپنے انعامات سے نوازے.اہل خیر وطلاب خیر کیلئے اجروثواب کا بہت بڑا موقع ہے کہ اس کتاب کو لوگوں میں مفت تقسیم کرکے ثواب دارین سے مستفید ہوں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/385900

    التحميل :دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمال